تلاش

وہ بچہ کہاں ہے
جو کہہ دے کہ حضرت سلامت

یہ سب لوگ ملبوس شاہی کا اقرار کرتے رہیں
مجھ کو تو آپ ننگے نظر آ رہے ہیں

وہ بچہ جو اتنی پرانی کہانی میں زندہ چلا آ رہا ہے
ہمارے وطن میں بھی ہوگا

ہمارے وطن میں بھی ہوگا
ڈری اور سہمی مگر پھر بھی جاری یہ آواز دل چیرتی ہے

ہمارے وطن میں بھی ہوگا
ہمارے وطن میں بھی ہوگا

میں درباریوں میں تو کیا نوکروں کے جلو میں بہت دور بیٹھا
لباس شاہی کا مدح خواں تو اب بھی نہیں

اشاروں کنایوں
علامات سے یا خرافات سے

کچھ نہ کچھ نظم میں کچھ نہ کچھ نثر میں بڑبڑاتا رہا ہوں
مگر واں بھی یاں کا یہ افسانہ سب کو سناتا رہا ہوں

وہ غالبؔ نہ ہو اور جالبؔ رہے پھر بھی ایسا ہی بچہ
ہمارے وطن میں بھی ہے

اور رہے گا

جمیل الدین عالی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان