تلخ لہجے سے اپنے مارتے ہو

تلخ لہجے سے اپنے مارتے ہو
کیوں کڑے وقت سے گزارتے ہو

اسکی چوٹی پکڑ گھسیٹوں میں
زلفیں جس کی بھی تم سنوارتے ہو

کھا کے دھوکے زمانے بھر سے تم

مجھ پہ بدلے سبھی اتارتے ہو

سارے جب ساتھ چھوڑ جاتے ھیں
ہو کے تنہا مجھے پکارتے ہو

ایک پل تولہ ایک پل ماشہ

کیا عجب رنگ تم بھی دھارتے ہو

میرے حصے لکھی محبت کو
غیر پہ بے دریغ وارتے ہو

تم سے رونق ہے میرے چہرے پر
رنگِ تسلیم تم نکھارتے ہو

 

تسلیم اکرام

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا