تلاشِ گمشدہ

اب تو گھر آ جاؤ
دل کے چین
تجھے کچھ کیا کہنا ہے
ہم نے مانا
تیرے روٹھ جانے میں تو
سارا دوش ہمارا تھا
لیکن اب تو تیری راہیں
تکتے تکتے عمر ہوئی
وہ بیمار ہے
اور ہر شخص پہ ویرانی کا سایہ
تیری ساری چیزوں سے
اب گرد ہٹانا مشکل ہے
اور یہ عمر بھی
ہجر کے آنسو رونے کو
ناکافی ہے

عدیم ہاشمی 

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا