تیغ لے کر کیوں تو عاشق پر گیا

تیغ لے کر کیوں تو عاشق پر گیا
زیر لب جب کچھ کہا وہ مر گیا

تڑپے زیر تیغ ہم بے ڈول آہ
دامن پاک اس کا خوں میں بھر گیا

خاک ہے پکڑے اگر سونا بھی پھر
ہاتھ سے جس کے وہ سیمیں بر گیا

کیا بندھا ہے اس کے کوچے میں طلسم
پھر نہ آیا جو کوئی اودھر گیا

خانداں اس بن ہوئے کیا کیا خراب
آج تک وہ شوخ کس کے گھر گیا

ابرو و مژگاں ہی میں کاٹی ہے عمر
کیا سنان و تیغ سے میں ڈر گیا

کہتے ہیں ضائع کیا اپنے تئیں
میر تو دانا تھا یہ کیا کر گیا

میر تقی میر

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی