تبلیغ پیام ہو گئی ہے

تبلیغ پیام ہو گئی ہے

حجت بھی تمام ہو گئی ہے

جب موج صبا ادھر سے آئی

تفریح مشام ہو گئی ہے

کتنی بودی ہے طبع انساں

عادت کی غلام ہو گئی ہے

خواہش کہ تھی آدمی کو لازم

بڑھ کر الزام ہو گئی ہے

تمہید پیام ہی میں اپنی

تقریر تمام ہو گئی ہے

بچنا کہ وبائے صحبت بد

اس دور میں عام ہو گئی ہے

حلقے میں قلندروں کے آ کر

تحقیق تمام ہو گئی ہے

جرگہ میں لقندروں کے جا کر

حکمت بدنام ہو گئی ہے

شیریں دہنوں کی طرز گفتار

مقبول انام ہو گئی ہے

بے جا بھی نکل گئی ہے جو بات

تحسین کلام ہو گئی ہے

نامرد کے ہاتھ میں پہنچ کر

شمشیر نیام ہو گئی ہے

تکفیر برادران دیں بھی

شرط اسلام ہو گئی ہے

کیا شعر کہیں کہ شاعری کی

ترکی ہی تمام ہو گئی ہے

اسماعیلؔ میرٹھی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا