سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا

سنو گے مجھ سے میرا ماجرا کیا

کہا کرتے ہیں افسانوں میں کیا کیا

نہیں تشویش آئندہ کہ ہو کب

گزشتہ کا تحیر ہے کہ تھا کیا

نہ کر تفتیش ہے خلوت نشیں کون

تأمل کر کہ ہے یہ برملا کیا

ہے اک آئینہ خانہ بزم کثرت

بتاؤں غیر کس کو ماسوا کیا

فقط مذکور ہے اک نسبت خاص

مقدر ہے خبر کیا مبتدا کیا

جہاں نقش قدم ہو روح قدسی

وہاں پہنچے گی عقل نارسا کیا

لگاؤں شیٔاً للہ کی صدا کیوں

بھلا دوں یفعل اللہ ما یشا کیا

اسماعیلؔ میرٹھی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا