سن تو اے دل یہ برہمی کیا ہے؟

سن تو اے دل یہ برہمی کیا ہے؟
آج کچھ درد میں کمی کیا ہے؟

دیکھ لو! رنگِ روئے ناکامی!
یہ نہ پوچھو، کہ بے بسی کیا ہے

اپنی ناکامئ طلب کی قسم!!
عین دریا ہے، تشنگی کیا ہے

جسم محدود، روح لا محدود
پھر یہ اک ربطِ باہمی کیا ہے

اے فلک! اب تجھے تو دکھلا دوں
زورِ بازوئے بے کسی کیا ہے

ہم نہیں جانتے محبت میں!
رنج کیا چیز ہے، خوشی کیا ہے

اک نفس خلد، اک نفس دوزخ
کوئی پوچھے یہ زندگی کیا ہے؟

عدیم ہاشمی 

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی