سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا

سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا
کہتی ہے تجھ کو خلقِ خُدا غائبانہ کیا

چاروں طرف سے صورتِ جاناں ہو جلوہ گر
دل صاف ہو ترا تو ہے آئینہ خانہ کیا

طبل و علم ہی پاس ہے اپنے، نہ ملک و مال
ہم سے خلاف ہو کے کرے گا زمانہ کیا

آتی ہے کس طرح سے مرے قبض روح کو
دیکھوں تو موت ڈھونڈ رہی ہے بہانہ کیا

یوں مُدعی حسد سے نہ دے داد تو نہ دے
آتشؔ! غزل یہ تُو نے کہی عاشقانہ کیا

خواجہ حیدر علی آتش

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل