سُکُوں دے کر یہ کیا مُشکل

سُکُوں دے کر یہ کیا مُشکل خرِیدی آپ نے ہے
مُبارک ہو سُنا ہے مِل خرِیدی آپ نے ہے

ہے خُوش فہمی کھرا اِک من کا سودا کر لِیا ہے
خُدا کے گھر کے بدلے سِل خرِیدی آپ نے ہے

کِسی کی طوطا چشمی سے ہُؤا یہ راز افشا
یہاں کے لوگ، یہ مِحفِل خرِیدی آپ نے ہے

وہاں بیکار میں مَیں جھونپڑے کی کھوج میں ہُوں
جہاں کا آب، گارا- گِل خرِیدی آپ نے ہے

ہُؤا اندازہ اب کُچھ آپ کو رُتبے کا اپنے
یہ گاڑی آپ کے قابِل خرِیدی آپ نے ہے

ہوا کے رُخ بدلنے میں بھلا ہے دیر کوئی؟
بجا کشتی معہ ساحِل خرِیدی آپ نے ہے

بھٹکتے پِھر رہے تھے مُدّتوں سے اب کُھلا یہ
مُسافت ماورا منزِل خرِیدی آپ نے ہے

رہا کرتا ہے کیوں بے چین ہر پل، ہر گھڑی کو
بلا کیا اے دلِ بِسمِل خرِیدی آپ نے ہے؟

مِری حسرتؔ، مِرے ارماں شرارت اور خموشی
مری بے چارگی، قاتِل! خرِیدی آپ نے ہے

رشید حسرت

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا