سفید رات کو دن کی دھڑک سمجھتے ہیں

سفید رات کو دن کی دھڑک سمجھتے ہیں
چراغ , جیسے ہوا کی لپک سمجھتے ہیں

دکھا رہے ہیں وہی جو پسند ہے مجھ کو
کہ آئنے مرے دل کی کسک سمجھتے ہیں

یہ برتنوں سے چھلکتی ہوئی اداسی ہے
جسے ہم ایک بدن کی کھنک سمجھتے ہیں

لبوں کے زہر کو چکھنے کی کیا ضرورت ہے
فقیر آنکھ میں پھیلی چمک سمجھتے ہیں

تمہارے بعد سمجھنے لگے ہیں سب ارشاد
خوشی کے ذائقے غم کی مہک سمجھتے ہیں

ارشاد نیازی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی