صبح تک بے طلب میں جاگوں گا

صبح تک بے طلب میں جاگوں گا

آج تو بے سبب میں جاگوں گا

اس سے پہلے کہ نیند ٹوٹے مری

تیرے خوابوں سے اب میں جاگوں گا

اب میں سوتا ہوں آپ جاگتے ہیں

آپ سوئیں گے جب میں جاگوں گا

دوست آگے نکل چکے ہوں گے

نیند سے اپنی جب میں جاگوں گا

معتبر ہوں میں قافلے کے لیے

ڈٹ کے سوئیں گے سب میں جاگوں گا

زبیر قیصر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا