صورت گر

صورت گر

کچی مٹّی
میرے اندر
خود ہی اک بُت کی صورت میں
ڈھلنے کو تیار ہے، لیکن
میرا چاک تو مجھ سے باہر گھوم رہا ہے

میں اندر کی ’ان گھڑ ‘ مورت
خود سے باہر کیسے لاؤں؟
کیوں میں اپنی کوکھ کی جنّت سے آدم کی کچی مٹّی
اس دنیا میں اتاروں، جس میں
کوزہ گر کہلانے والا
کوئی حسنؔ تیار کھڑا ہے
جو یہ آدھی ادھوری مورت
صدیوں پرانے، ٹوٹے پھوٹے چاک پہ رکھ کر
اک وحشی حیوان کے قالب میں ڈھالے گا!

ستیا پال آنند

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا