سو گئے دل کا ماجرا سنتے

سو گئے دل کا ماجرا سنتے
رات بھر کیا صدائے پا سنتے

گو خموشی نہیں غموں کا علاج
پھر بھی کیا کہتے اور کیا سنتے

کارواں بھی گریز پا نکلا
ورنہ کیا کیا شکستہ پا سنتے

غم ہستی کا روگ کیا معنی
چل کے نغمہ بہار کا سنتے

کسی کنج طرب میں دم لیتے
مرغ آزاد کی نوا سنتے

حسن سرو و سمن کے پردے ہیں
داستان غم صبا سنتے

جرس غنچۂ امید کے ساتھ
طوق و زنجیر کی صدا سنتے

گاؤں جا کر کرو گے کیا باقیؔ
شور کچھ دیر شہر کا سنتے

باقی صدیقی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان