سنہرا لہجہ

سنہرا لہجہ

 

ہونٹ سے پرے دل میں
کام کی دعا ایسی۔۔۔
کس کو یہ خبر لیکن ،اِس سنہرے لہجے میں
کھارے کھارے پانی سا۔۔۔
بد گمانیوں سے پُر
زہر،ایسا گھل جائے ۔۔۔
جس سے ایک دم سارا
سنہرا لہجہ۔۔۔دھل جائے !!!!

فرزانہ نیناں

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا