ستاروں کا جگ پر اُبھرنا فنا ہے

غزل ستاروں کا جگ پر اُبھرنا فنا ہے
ترے در پہ دل کا لگانا فنا ہے

محبّت تو کرنی نہیں ہم کو آتی
محبّت کی راہ سے گزرنا فنا ہے

دیئے تو سبھی ہیں جلاتے مگر
وہ ترا ہم کو جاناں!! جلانا فنا ہے

تری دل لگی ہم کو بھولے نہیں ہے
ترا ہم سے جاں کا، چھڑانا فنا ہے

مبارک تمہیں ہو تمہارا ستانا
جو باندھا ہے دِل پر نشانہ فنا ہے

ترے حسن کا کب ٹھکانہ کہیں ہے
ترے لب پہ تِل کا مچلنا فنا ہے

قیامت ہے منہ کو چھپانا ترا، بھی
مگر چھت سے بے دم اترنا فنا ہے

سبھی ہیں سحرمجھ کوکہہ کر بلاتے
ترا ہم کو ” پگلی ” بلانا فنا ہے

سحر افشیؔ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا