سر پہ پہنا ہے جو میں نے مدحتِ آقا کا تاج

سر پہ پہنا ہے جو میں نے مدحتِ آقا کا تاج
کر رہا ہے دن بدن میرے غموں کا بھی علاج

ان کے نقشِ پا سے روشن ہے حیاتِ جاوداں
تیرہ بختی کے اندھیروں میں ہیں وہ روشن سِراج

وہ کہ جن کے فیض سے ذروں کو تابانی ملی
ان کے ہی صدقے سلامت ہے مری ہستی کی لاج

دین و دنیا کی بھلائی ان کی چوکھٹ سے ملی
ان کی نسبت سے سنورتا ہے مرا کل اور آج

عشقِ احمد ﷺ کا چلن ہی زندگی کی روح ہے
اب بدلنا ہے ہمیں اس نفسا نفسی کا رواج

حاکمِ وقت و سلاطینِ جہاں سب ہیچ ہیں
میرے دل کی سلطنت پر ہے محمد ﷺ ہی کا راج

آپ کی خوشبو سے مہکی ہے مری فکر و نظر
آپ کے ہی ذکر سے چلتا ہے میرا کام کاج

ان کی رحمت کا یہ عالم ہے کہ اے اہل نظر
ہو رہا ہے خاکِ طیبہ سے ہر اک دکھ کا علاج

جب سے نسبت چوکھٹ احمد سے میری ہو گئی
خوب بدلا ہے مرے اس قلبِ عاجزؔ کا مزاج

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ

Related posts

احادیث سے زندگی آسان بنائیں

ماہ صفر المظفر اور اس کی اہمیت

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں