سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوجائے گا

سر جھکاؤگے تو پتھر دیوتا ہوجائے گا

اتنا مت چاہو اسے وہ بے وفا ہوجائے گا

ہم بھی دریا ہیں ہمیں اپنا ہنر معلوم ہے

جس طرف بھی چل پڑیں گے راستہ ہوجائے گا

کتنی سچائی سے مجھ سے زندگی نے کہہ دیا

تو نہیں میرا تو کوئی دوسرا ہوجائے گا

میں خدا کا نام لے کر پی رہا ہوں دوستو

زہر بھی اس میں اگر ہوگا دوا ہوجائے گا

سب اسی کے ہیں ہوا، خوشبو، زمین و آسماں

میں جہاں بھی جاؤں گا اس کو پتہ ہوجائے گا

(بشیر بدر)

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا