سلسلہ وار شجر کٹتے

سلسلہ وار شجر کٹتے ہوئے دیکھا ہے
کمرا کمرا کوئی گھر کٹتے ہوئے دیکھا ہے

آ مری آنکھ سے رفتار ملا لے اپنی
اس مسافر نے سفر کٹتے ہوئے دیکھا ہے

باغ میں پھول کی توہین گوارا کی ہے
خواب میں اپنا ہی سر کٹتے ہوئے دیکھا ہے

میں کسی صحن کی زینت تو نہیں پر میں نے
بارہا اپنا ثمر کٹتے ہوئے دیکھا ہے

وہ جزیرہ بھی سفر پر نکل آیا جس نے
میری کشتی سے بھنور کٹتے ہوئے دیکھا ہے

بادلوں سے مرے پر گھستے نہیں ہیں حارثؔ
میں نے دھاگے سے گہر کٹتے ہوئے دیکھا ہے

حارث بلال

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے