سیاہی کے نقوش اور خلوص کی کائنات

علم، محض معلومات کا انبار نہیں، بلکہ یہ تو روح کی تراش خراش کا ایک طویل سفر ہے۔ آج جب ہم علم کو جدید آلات اور برقی اسکرینوں کی چکاچوند میں ڈھونڈ رہے ہیں، تو ماضی کی وہ ٹاٹ کی چٹائی اور لکڑی کی تختی بے اختیار یاد آتی ہے۔ اس تختی پر سیاہی سے اترنے والے نقوش صرف حرف نہیں ہوتے تھے، یہ تو انسان کے باطن پر کندہ ہونے والی ایسی لکیریں ہوتی تھیں جو زندگی بھر ساتھ نبھاتی تھیں۔
وہ دور بھی کیا دور تھا! تختی پر لکھا گیا ایک ایک حرف دل کی گہرائیوں میں اتر جاتا۔ مٹی سے تختی کو صاف کرنا، پھر اسے سکھانا، اور دوبارہ دوات کی سیاہی میں قلم ڈبو کر لکھنا—یہ محض ایک تعلیمی عمل نہ تھا، یہ تو تکرارِ محبت تھی۔ کانے کے قلم کو تراشنا، اس کی نوک کے عین درمیان میں وہ لمبا کٹ لگانا—جو دراصل ایک سنت کی پیروی تھی—اور پھر حروفِ تہجی کی مشق کرنا، یہ سب وہ ادب اور سلیقے کے ایسے اسباق تھے جو آج کی اس تیز رفتار مشینی تعلیم میں کہیں کھو گئے ہیں۔ آج کی تعلیم میں ‘رفتار’ تو بہت ہے، مگر وہ ‘ٹھہراؤ’ کہاں؟
مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے، جب ہم نے اپنے استاد سے پوچھا کہ قلم کی نوک پر یہ کٹ کیوں لگایا جاتا ہے؟ استادِ محترم نے ایک گہری نظر ڈالی اور خاموشی سے قلم کو دوات میں ڈبویا۔ انہوں نے پورے ادب کے ساتھ تختی پر ‘محمد’ ﷺ کا اسمِ مبارک لکھا، اور پھر ایک ایسا عمل کیا جو آج بھی میرے وجود میں تھرتھراہٹ پیدا کر دیتا ہے—انہوں نے وہیں قلم توڑ دیا۔ جب ہم نے حیرت سے پوچھا تو ان کا جواب اس کائنات کا نچوڑ تھا: "جس قلم کی نوک سے آقا و مولیٰ ﷺ کا نام لکھا جا چکا ہو، اب اس میں یہ سکت کہاں باقی ہے کہ وہ کسی اور دنیاوی لفظ کو اپنے وجود سے گزرنے دے؟ اس نام کے بعد تو قلم ایک امانت بن جاتا ہے، اب اسے کسی اور مقصد کے لیے استعمال کرنا اس نام کی بے حرمتی ہے۔” کانے کے قلم کے اس کٹ میں چھپی وہ سنت اور اس کے بعد قلم کا ٹوٹ جانا، دراصل اس عشق کا عروج تھا جہاں محبوب کے نام کے بعد کائنات کے تمام الفاظ بے معنی اور بے وزن ہو جاتے ہیں۔
اس دور میں، جہاں علم کی خرید و فروخت ایک صنعت بن چکی ہے، "ٹاٹ کی چٹائی” اس سادگی کی علامت ہے جو انسان کو مادہ پرستی سے نکال کر اخلاقی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔ لکڑی کی تختی یہ خاموش درس دیتی ہے کہ علم کو پہلے اپنے وجود کے کچے گوشوں پر نقش کرنا پڑتا ہے، تب ہی وہ چراغ بن کر معاشرے کو روشن کر سکتا ہے۔
علم دراصل اسی اندرونی سفر کا نام ہے، جہاں فاصلے کم نہیں کیے جاتے، بلکہ انسان کی اپنے آپ سے دوری مٹائی جاتی ہے۔ ہم نے تختی چھوڑ کر جدید آلات تو تھام لیے، مگر کیا وہ علم اب بھی ہمارے سینوں کو منور کرتا ہے؟ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی علمی اور روحانی جڑوں کی طرف واپس پلٹیں، جہاں حروف کی ترتیب سے پہلے دلوں کی پاکیزگی کو ترجیح دی جاتی تھی۔
اس کیفیت کو اس شعر کے آئینے میں دیکھنا چاہیے:

ہے مشقِ قلم، نامِ محمد ﷺ سے سجی
اس علم کے صدقے، میری دنیا بھی لٹی

آئیے! ہم اپنے ذہنوں کو جدید آلات کی غلامی سے نکال کر، اپنے باطن کو پھر سے اس تختی کی طرح تیار کریں جس پر نامِ مصطفیٰ ﷺ کی روشنی اور ادب کی مٹھاس نقش ہو سکے۔

پیر انتظار حسین مصور

Related posts

سوچتے رہو، جیتے رہو

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

اُردو شعرا پر سوشل انزائٹی کے اثرات