سیاہ شب کے مسافر

سیاہ شب کے مسافر کو جب دعا دینا
بجھے چراغ کو اک بار پھر جلا دینا

انا کی بھیڑ میں خود کو کہیں نہ کھو بیٹھوں
مرے شعور ذرا مجھ کو راستہ دینا

بکھرتے پتے خزاں رت مرا نصیب سہی
وہ آئے تو اسے موسم ھرا بھرا دینا

یہ راہ شوق ھے اس میں پلٹ کے جو دیکھے
وہ بے شعور ھے پتھر اسے بنا دینا

بس ایک لحظہءقربت۔بس ایک لحظہ ء لمس
پھر اس کے بعد مجھے دل سے تم بھلا دینا

میں سوکھے پھول کو دہلیز پر رکھ آیا ھوں
میں جنگ ھار گیا ھوں اسے بتا دینا

انجم جاوید

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان