شوخ آواز سرِ راہ تماشا چاہے

شوخ آواز سرِ راہ تماشا چاہے
ایک پائل تری دہلیز کا رستہ چاہے

اس سے پہلے کہ مرے کمرے کی دیوار گرے
اک پرندہ ہے جو تصویر سے اڑنا چاہے

کون سا پھول ہے جو باغ میں پا کر تجھ کو
تیری پوشاکِ معطر پہ نہ کھلنا چاہے

میں محبت سے سوا تجھ کو محبت دوں گی
میرے حصے میں نہ آئے مرا حصہ چاہے

میں اگر جانے لگوں اپنے تعاقب میں کبھی
میرا سایہ میرے قدموں سے لپٹنا چاہے

نمرہ علی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی