شہر مکہ سے مدینے کا سفر ہو

شہرمکہ سے مدینے کا سفر ہو
خاک نعلینِ محمد میرے سر ہو

ایسے دیکھوں میں تخیل کی نظر سے
آپ ہوں صحنِ حرم وقت سحر ہو

میں بھی دیکھو حسن دوعالم کی صورت
ایسی اک تعبیر میرے خواب پر ہو

کیسے ممکن تھا مگر ممکن ہوا ہے
اک اشارہ وہ کریں اور شق قمر ہو

ہم لکھیں قصیدے جمالِ مصطفی کے
عمر اپنی ان کی مدحت میں بسر ہو

وصال عباسی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر