شیشۂِ دل پر اتر جانا کسی تصویر کا

شیشۂِ دل پر اتر جانا کسی تصویر کا
آہ! تنہا بیٹھ کر پھر سوچنا تقدیر کا

ایک دل تھا جو نشانہ ہو گیا دل گیر کا
اک دُکھی درویش سے کیا پوچھنا جاگیر کا

زؔین پر غالب ہوا ہے امتحاں تاثیر کا
” نقش فریادی ہے کس کی شوخئ تحریر کا “

جب اسیری کی حدیں معلوم کرنے میں لگا
ذائقہ خوراک سے آنے لگا زنجیر کا

پیار چھوڑیں صاحبِ دینار ہو گر جیبِ دل
دفعتاً ہو جائے گا حل مسئلہ تسخیر کا

آتشِ دل کی ضیا سے دی اندھیرے کو شکست
خود پہ یوں کھولا ہے میں نے راستہ تنویر کا

وہ اشارہ دے گئے بعد از ظہورِ رازِ دل
دیکھ کر میری طرف ، پھر دیکھنا شمشیر کا

زین علی آصف

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی