شعور بہت بڑی نعمت ھے

ماسٹر صاحب۔یہ کیا کر رہے ھو۔؟
ارے بھائ ہر سال پانی آجاتا ھے اس بار گھر کا پکا بندوبست کر رہا ھوں۔ کہ جتنا ھو سکے پانی سے گھر کو بچایا جاۓ۔
ہاں ماسٹر ۔گاؤں میں پانی کچھ زیادہ ہی آنا شروع ھو چکا ھے۔ پچھلے سال بھی بہت نقصان ھوا تھا۔
ظاہر سی بات ھے ۔مظہر میاں
اب شہروں کو بچانے کی خاطر پانی کا رخ گاؤں کو طرف موڑ دیتے ہیں اور یہاں پانی اپنی تباھی مچاتا ہوا آگے نکل جاتا ھے۔
یہ بھی تو ناانصافی ھے ناں ماسٹرصاحب۔
اب ہماری فصلیں ہمارے خون پیسنے سے تیار ھوتی ھے ہم اک جان لگا دیتے ہیں اور یہ پانی آکر سب کچھ تباہ و برباد کر دیتا ھے۔
کیا کریں اب جب ملک میں ڈیم ہی نہ ھو تو ایسا ھو ھوگا۔
ارے بھئ تم بھی اپنے گھر کے اوپر اک کمرہ ہی بنا لوں تاکہ مشکل وقت میں قیمتی سامان و مال کو محفوظ کیا جاسکے اور سب سے بڑھ کر اپنی پناہ گاہ بنائ جاسکے۔ مشکل وقت میں کون ساتھ دیتا ھے۔ اب پچھلے برس ہی دیکھ لو ۔چودھری صاحب جو سارا سال ہم سے کام۔ لیتے ہیں ووٹ لیتے ہیں وعدے کرتے ہیں۔مشکل وقت میں کوئ نظر نہی آتا مدد کرنا تو بھئ بہت دور کی بات ھے۔اب بس ساون تھوڑا دور ہی ھے پھر دیکھنا کیسے نہر بھر جاۓ گی ۔
آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں اس بار میں بھی کچھ کرتا ھوں۔تھوڑا بہت ہی سھی پر کروں گا ضرور
إنشاءاللّٰه
ارے بھائ ایسا کچھ نہی ھوتا پھر سب کے ساتھ ھوتا ھے ۔ارے بہادر صاحب آپ کو چاھیۓ اللہ کا دیا صیح جگہ پر استعمال کریں تاکہ مشکل وقت میں آپکو کسی کی مدد کی ضرورت نہ ھؤ
ماسٹر صاحب اللہ ھے ناں مشکل وقت میں سنبھال لے گا۔
بیشک وہی سنبھالتا ھے۔کوئ شک نہی۔پر جناب اللہ نے شعوردیا عقل و فہم کو استعال کرنے کو کہا ھے۔
اب اک چیز نظر آتی ھے ہر سال پانی آنا اور تباہی کا سبب بننا ھے پھر کیوں ہم ہر سال اس تباہی میں خود کو محفوظ نہی کرتے۔جناب یہ توکم عقلی کی بات ھے۔
ایمان مضبوط ھونا یہ اپنا اپنا ایمان ھے پر حالات کو سمجھ کر لائحہ عمل تیار کرنا یہ اپنے اپنے شعور کی بات ھے۔بھئ تمہاری مرضی۔
اچھا بھئ نماز کا وقت ھونے جا رہا پھر ملاقات ھو گی۔
مظہر ۔ماسٹر دین کی بات کو سمجیدہ لے لیتا ھے۔ اور دوسری طرف بہادر نظر انداز کے گھر کی طرف چلا جاتا ھے۔
ادھر ماسٹر دین کا گھر مکمل ہو جاتا تھوڑا تھوڑا کر کے وہ آخر بنا ہی لیتے ہیں اتنا اونچا گھر کے سیلاب سے کچھ بچت ھو جاۓ۔
مظہر بھی اپنی بیوی سے مشورہ کرتا ھے اور وہ اسکو کہتی ھے اگلے ماۀ جو کمیٹی ملے گی اس سے اوپر کی چھت مضبوط کر کے اک کمرہ باتھ روم بنا لیں گے۔بات تو بہتر ھے پچھلی بار میں میرا اتنا کچھ ضائع ہوگیا تھا اللہ آسانی کرے ہم سب کے لیے آمین۔
ادھر جب بہادر اپنی بیوی سے مشورہ کرتا ھے تو وہ غصے میں کہتی ہے تم پاگل ہو اچھا خاصا پکا مکان ھے ہمارا کیا ضرورت اوپر کمرہ بنانے کی کحھ نہی ہوتا دیکھا جاۓ گا۔اب ہم اپنی خواہشیں بھی نہ پوری کرے آپ جا کراچھے سے مجھے صوفے لا کر دیں۔آخر اب جا کر ہماری سنی گئ ھے۔رہنے دیں انکو انکے گھروں میں ھے ہی کیا جو انہوں نے بچانا۔آپ انکی باتوں میں مت آنا بس چپ رہیں۔ماسٹر دین کی تو عادت ھے ہر بندے کو سبق دینے گی۔ وہ مسکرا پڑتے ہیں۔
مظہر اور ماسٹر دین کودیکھ کر بہت سے گاؤں والے اپنے گھروں کی چھت پر اک کمرہ اور باتھ روم بنانا شروع کر دیتے ہیں۔
اور جو زیادہ غریب ھوتے ہیں انکے لیے گاؤں کا فلاحی ادارہ رقم اکٹھی کرنا شروع کر دیتا ھے تاکہ گاؤں کےاسکول کے اوپر کچھ کمرے بناۓ جا سکیں جو پناۀ گاۀ کی صورت میں محفوظ مقام کہلائیں۔
وقت گزرتا گیا۔آخر ساون زوروشور کے ساتھ اپنا رنگ دیکھانے لگا۔تب تک گاؤں کے سکول کے اوپر کمرے تیار ھو گۓ لوگوں نے اپنے بندوبست کر لیں خوراک ذخیرۀ کر لی ۔اس بار لوگ پہلے سے ہی تیار تھے ۔
اور دن گزرتے گزرتے گاؤں کی نہر اپنے جلال کے رنگ دیکھانے لگی۔
سب پریشان تھے کیونکہ پانی کا بہاؤ اور چڑھاؤ پچھلے برس کی نسبت بہت زیادہ تھا۔
ماسٹر صاحب اس بار پانی کچھ زیادہ ہی نہی لگ رہا۔
ہاں یار۔پانی تو اس بار کچھ زیادہ ھی ھے دعا کرو مزید بارشیں نہ ھوں ورنہ تیار رہنا یہ سیلاب کم آفت زیادہ ھو گا۔
اللہ ہم سب پر رحم فرماۓ آمین۔
اس رات عشاء کی نماز کے بعد بہادر کو ماسٹر صاحب نے کہا
دیکھو بہادر۔ خطرہ تمہارے سامنے ہے اور سر کے بلکل اوپر ھے ابھی بھی وقت ھے اپنا قیمتی سامان میرے گھر میں رکھ دو اور پھر لے جانا بھئ امانت ھے ویسے بھی تم اپنے بچوں سمیت میرے گھر آجانا۔
وہ بات کو نظر انداز کرتا ھوا چلا گیا۔جب بیگم کو کہا تو وہ آگے سے بولی ارے بھئ اگلے ہفتے میرے بہن بھائیوں کی دعوت ھے میں اسکی تیاری کرو کہ سامان اٹھاؤ۔کچھ نہی ھوتا دیکھی جاۓ گی سب ادھر ہی ہیں۔
اس رات شدید ترین بارش ھوئ ۔ہر طرف پانی ہی پانی ھو گیا۔اچانک اعلانات ھونا شروع ھوگۓ تمام لوگ سکول کی طرف اور اپنے اپنے گھروں کی اوپر کی منزل کی طرف چلے جائیں۔نہر کا بند ٹوٹ گیا ھے اور پانی بہت تیزی سے آبادی کی طرف آرہاھے۔
پورے گاؤں میں ہلحل مچ گئ ۔لوگ اپنے اپنے گھر کے اوپر کۓ گۓ تیار کمروں میں چلے گۓ۔اور نیچے کے مکان والے سکول کی طرف جانا شروع ھو گۓ اپنے چند۔قیمتی ساماں و بچوں کے ساتھ۔
اب ہر طرف پانی تباہی مچاتا ہوا آبادی میں داخل ھو گیا۔
اسوقت بہادر اور اسکی بیوی نے رونا دھونا شروع کر دہا۔ہمارا سب کچھ پانی میں ڈوب گیا ھے۔سب برباد ھو گیا ھے ۔اسوقت وہ ماسٹر دین کے گھر بے بسی کا رونا ڈال کر بیٹھے تھے۔
ماسٹر دین بولے ۔اب رونے کا کیا فائدہ۔
جب کہا تھا کہ کچھ کر لو وقت ھے تب تم لوگوں نے اک بھی نہ سنی ۔تم سے اچھا وہ مظہر رہا جس نے جمع پونچی اکٹھی کر کر کے اپنے گھر کے اوپر کمرہ ڈال لیا ھے آج وہ اسکے بچے محفوظ ھیں۔
دکھاوا کرتے کرتے تم لوگوں نے خود کو ھی ڈبو دیا ھے۔
اب پچتھاؤ بیٹھ کر۔جب صبح ھوتے ہی بہادر اور اسکے بیوی نے ماسٹر کے چھت سے اپنے گھر کو دیکھا تو سارا سامان پانی میں تیر رہا تھا اسکا سارا نیا سامان برباد ھو گیا وہ دیکھ کر اور رونے لگے ۔کہ ہم غرق ھو گۓ اپنی میں کو اپناتے اپناتے۔
اس سال لوگوں کی تھوڑی سی کاوش سے لوگوں کا نقصاں بہت کم ھوا۔
اور سب نے آئندہ سال کے لیے مذید بہتر کرنے کا سوچا۔ اور محنت کرنے کی ٹھان لی۔ یہ ماسٹر دین کا سمجھانے کا اثر تھا جو لوگ سمجھتے گۓ اپنا فائدہ کرتے گۓ۔
شعور بہت بڑی نعمت ھے۔ یہ ہمیں زندگی کے بہت سے ایسے حادثات سے بچا لیتا ھے۔جو ہمیں معلوم ہوتا ھے کہ ہم نے انکو دیکھانا ھے۔اور ہر قیمت اسے کے ساتھ لڑنا ھے۔
اللہ پاک ہم سب کو ہر طرح کی آزمائش سے دور رکھیں ۔آمین۔

صنم فاروق حسین

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے