شریکِ جرم نہ انجام تک گئے

شریکِ جرم نہ انجام تک گئے
ہمارے جیسے تو الزام تک گئے

تری تلاش میں نکلے تو کھوئے خود
یوں صبح نکلے تو پھر شام تک گئے

سوال ایسے کہ مشکل تھے پوچھنے
بہانے گفت کے ہم نام تک گئے

خیالی دنیا سے آزادی پانے کو
چلے جو کام سے بس کام تک گئے

نہ من ہو پاک تو سجدے ہیں رائگاں
خدا کسے ملا احرام تک گئے ؟

بےجا ہی بیٹھے ہو یژمردہ تم زمل
وہ خاص خاص سو ہم عام تک گئے

 

ناصر زملؔ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی