شام ہوئی تو کوزہ گر پہ کوزہ گری کا بھید کھلا

شام ہوئی تو کوزہ گر پہ کوزہ گری کا بھید کھلا
پہلے بھید کھلا مٹی کا پھر پانی کا بھید کھلا

ان آنکھوں کے سحر میں ہم نے عمر گذاری تب جا کر
جادو کے احوال کھلے اور جادوگری کا بھید کھلا

صحراؤں میں پیاس سے زیادہ باس تھی بہتے پانی کی
صحراؤں سے نکلے ہیں تو تشنہ لبی کا بھید کھلا

اک دن میں نے آئینے کو ایسے رخ سے کھول دیا
خوش پوشی حیران ہوئی ہے عریانی کا بھید کھلا

دل میں نیلی آگ جلا کر جنگل جنگل پھرنے سے
ویرانوں کو جانا ہم نے آبادی کا بھید کھلا

باغ عدن کی حیرانی میں کامی شاہ اک شام ڈھلے
لال فرشتے کے ملنے سے سبز پری کا بھید کھلا

سید کامی شاہ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی