شب وصل تھی، چاندنی کا سماں تھا

شب وصل تھی، چاندنی کا سماں تھا
بغل میں صنم تھا، خدا مہربان تھا

مبارک شب قدر سے بھی وہ شب تھی
سمر تک مرد مشتری کا قرآن تھا

وہ شب تھی کہ تھی روشنی جس میں دن کی
زمین پر سے اک نور تا آسمان تھا

نکالے تھے دو چاند اس نے مقابل
وہ شب صبح جنت کا جس پہ گماں تھا

عروسی کی شب کی حلاوت تھی حاصل
فرحناک تھی روح، دل شادمان تھا

بیان خواب کی طرح جو کر رہا ہے
یہ قصہ ہے جب کا کہ آتش جواں تھا

خواجہ حیدر علی آتش

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا