شب رفتہ میں اس کے در پر گیا

شب رفتہ میں اس کے در پر گیا
سگ یار آدم گری کر گیا

شکستہ دل عشق کی جان کیا
نظر پھیری تونے تو وہ مر گیا

ہوئے یار کیا کیا خراب اس بغیر
وہ کس خانہ آباد کے گھر گیا

کشندہ تھا لڑکا ہی ناکردہ خوں
مجھے دیکھ کر محتضر ڈر گیا

بہت رفتہ رہتے ہو تم اس کے اب
مزاج آپ کا میر کیدھر گیا

میر تقی میر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا