سہنے کو ہجر جب بھی تمنا مزید کی

سہنے کو ہجر جب بھی تمنا مزید کی
میں نے وجودِ شعر سے لذت کشید کی

دیکھا تھا رات خواب میں صحرا مزاج شخص
نگری بھی لگ رہی تھی وہ خواجہ فرید کی

اے مفتیان ِ شہر تمہیں علم ہی نہیں
لوگوں نے میرے چاند کو دیکھا تو عید کی

یہ سنتِ حسین ہے سو اس لئے بھی میں
بیعت قبول کی نہ کسی بھی یزید کی

خوشیاں تو دستیاب تھیں بازار میں مگر
دانستہ میں نے ہجر کی دولت خرید کی

طارق جاوید

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی