سینکڑوں بیکسوں کا جان گیا

سینکڑوں بیکسوں کا جان گیا
پر یہ تیرا نہ امتحان گیا

واے احوال اس جفاکش کا
عاشق اپنا جسے وہ جان گیا

داغ حرماں ہے خاک میں بھی ساتھ
جی گیا پر نہ یہ نشان گیا

کل نہ آنے میں ایک یاں تیرے
آج سو سو طرف گمان گیا

حرف نشنو کوئی اسے بھی ملا
تب تو میں نے کہا سو مان گیا

دل سے مت جا کہ پھر وہ پچھتایا
ہاتھ سے جس کے یہ مکان گیا

پھرتے پھرتے تلاش میں اس کی
ایک میرا ہی یوں نہ جان گیا

اب جو عیسیٰ ؑ فلک پہ ہے وہ بھی
شوق میں برسوں خاک چھان گیا

کون جی سے نہ جائے گا اے میر
حیف یہ ہے کہ تو جوان گیا

میر تقی میر

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان