سر پہ آرہ چل رہا ہے سی نہیں کرنی مجھے

سر پہ آرہ چل رہا ہے سی نہیں کرنی مجھے
اور قاتل کی حمایت بھی نہیں کرنی مجھے

دل کسی کے ساتھ شمشیریں کسی کے ساتھ ہوں
ایسے لشکریوں کی سالاری نہیں کرنی مجھے

بے ضمیروں سے رعایت کی توقع اور میں؟
جان بخشی کی گزارش، جی نہیں! کرنی مجھے

اک چبھن سی چھوڑ جاؤں گا ہمیشہ کے لئے
جا کے بھی اپنی جگہ خالی نہیں کرنی مجھے

جو بھی کہنا ہے اچھوتے رنگ میں کہنا ہے بس
دوسرے لوگوں کی نقالی نہیں کرنی مجھے

سید انصر

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا