سرِ بازار

میں سہاروں کی کبھی کھوج میں نکلا سرِ بازار
یہ بتانے سے ہوں قاصر ہوا کیا کیا سرِ بازار

وہ جو تھے سوچ کی سوکھی ہوئی شاخوں سے گرے لوگ
بھلا کیسے میں انہیں لفظوں میں بنتا سرِ بازار

نہ اٹھاؤ یہ وہ ہے جس کو تھا یاروں پہ بڑا مان
پڑا رہنے دو ناں کم بخت کا لاشا سرِ بازار

کریں کیسے نہ نمائش یہ لبِ تشنہ و مبہم
کبھی دل میں ہو جو بیدار تمنا سرِ بازار

یوں بغاوت پہ اتر آئی تھی بس چشمِ زلیخا
نہیں چاہا تھا محبت کا تماشا سرِ بازار

 

ناصر زملؔ

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان