سمے کی راجدھانی سے نکل کر

سمے کی راجدھانی سے نکل کر
ملا کیا اس کہانی سے نکل کر

سوائے رایگا نی کچھ نہیں تھا
میں دیکھا رایگا نی سے نکل کر

کنارِ آب مصروفِ دعا تھا
خدا اس گہرے پانی سے نکل کر

پھر اک دن میں زمانہ ہو گیا تھا
حدودِ لامکانی سے نکل کر

ابد کے گیت لکھنا چاہتا ہوں
ازل کی نوحہ خوانی سے نکل کر

ہیولے میں ہوے تبدیل سرمد
ہمارے شعر معنی سے نکل کر

عدنان سرمد

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی