سیر کی ہم نے ہر کہیں پیارے

سیر کی ہم نے ہر کہیں پیارے
پھر جو دیکھا تو کچھ نہیں پیارے

خشک سال وفا میں اک مدت
پلکیں لوہو میں تر رہیں پیارے

یک نظر دیکھنے کی حسرت میں
آنکھیں تو پانی ہو بہیں پیارے

پہنچی ہے ضعف سے یہ اب حالت
جہاں پہنچا رہا وہیں پیارے

تجھ گلی میں رہے ہے میر مگر
دیکھیں ہیں جب نہ تب نہیں پیارے

میر تقی میر

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا