سیلاب کے زخم اور کیمروں کا تماشہ

سیلاب کا پانی تو آہستہ آہستہ اتر جاتا ہے، مگر جو زخم یہ دلوں پر چھوڑ جاتا ہے وہ آسانی سے نہیں بھرتے۔ اجڑی بستیاں، ملبے تلے دبی یادیں اور آنکھوں میں اترتی نمی۔۔یہ سب وقت کے ساتھ کہیں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ مگر اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ متاثرین کے دکھوں کو سہارا دینے کے بجائے ہم نے ان کی بے بسی کو کیمروں میں قید کر کے تماشہ بنا دیا ہے۔

بستیوں میں داخل ہونے والے افراد ہاتھ میں امدادی سامان کم اور موبائل فون زیادہ لیے نظر آتے ہیں۔ کوئی بچہ کیچڑ میں برہنہ پا بیٹھا ہو، کوئی عورت ٹوٹے مکان کے اندر سامان ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہو یا کوئی بزرگ شخص خالی ہاتھ آسمان کی طرف دیکھ رہا ہو، یہ سب منظر ہمدردی کے بجائے ہمارے لیے فوٹوگرافی کا موضوع بن جاتے ہیں۔ دکھ کی اس گھڑی میں متاثرین کے چہروں کو محفوظ کر کے دنیا کے سامنے پھیلانا شاید لمحاتی شہرت تو دے دے، مگر ان کے لیے یہ عمر بھر کی اذیت ہے۔

یہ ایک وقتی آفت ہے۔ پانی خشک ہو جائے گا، لوگ دوبارہ آباد ہونے لگیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ماؤں بہنوں کی تصویریں کب تک انٹرنیٹ پر گردش کرتی رہیں گی؟ ایک لمحے کی مجبوری کو برسوں تک سوشل میڈیا پر اچھالنا کہاں کی انسانیت ہے؟ کیا ہم یہ برداشت کر سکتے ہیں کہ کل کو ہماری اپنی عزتیں اسی طرح دوسروں کے کیمروں میں قید ہو کر دنیا بھر میں پھیل جائیں؟

المیہ یہ بھی ہے کہ کسی کی مجبوری کو ہم اپنی شہرت یا مفاد کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ لائکس، کمنٹس اور ویوز کے پیچھے دوڑتے ہوئے ہم بھول جاتے ہیں کہ جسے ہم "کانٹینٹ” کہہ رہے ہیں وہ کسی کا جیتا جاگتا دکھ ہے۔ بعض لوگ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر متاثرین کی ویڈیوز اور تصویروں کو استعمال کر کے فنڈز بٹورتے ہیں۔ امداد کے نام پر اکٹھے ہونے والے پیسے اکثر ان بے سہارا خاندانوں تک نہیں پہنچتے، بلکہ چند خود غرض لوگ اپنے حالات سنوارنے کے لیے اسے کھا جاتے ہیں۔ یوں نہ صرف متاثرین مزید مایوسی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ عوام کا اعتماد بھی ٹوٹ جاتا ہے۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ٹک ٹاک اور دیگر پلیٹ فارمز پر ان دکھ بھری کہانیوں کو تفریحی مواد میں بدل دیا جاتا ہے۔ پس منظر میں موسیقی لگا کر کسی کی بے بسی کو "ویڈیو” بنا دینا یا اپنی اداکاری کے لیے ان برباد گھروں کو پس منظر بنا لینا ہماری اجتماعی بے حسی کی انتہا ہے۔ یہ رجحان ہماری آنے والی نسل کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔ وہ یہ سیکھ رہے ہیں کہ انسانیت کے زخم بھی تفریح کا سامان بن سکتے ہیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم یہ سوچ بدلیں۔ متاثرین کو تصویری ہمدردیوں کی نہیں، عملی مدد کی ضرورت ہے۔ انہیں صاف پانی، راشن، کپڑے، علاج اور رہائش چاہیے۔ اگر کسی کو واقعی فوٹوگرافی یا ویڈیوگرافی کرنی ہے تو وہ اس نیت سے کرے کہ دنیا متاثر ہو کر مدد کے لیے آگے بڑھے۔ لیکن اس کے لیے متاثرین کی اجازت اور عزتِ نفس کا خیال رکھنا لازم ہے۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔ کیا ہم انسانیت کی خدمت کے لیے کھڑے ہوں گے یا دوسروں کی مجبوری کو اپنی تفریح اور مفاد کا ذریعہ بناتے رہیں گے؟ اگر ہم نے اپنے رویے نہ بدلے تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔

میں آخر میں یہ کہوں گا کہ سیلاب ایک وقتی امتحان ہے، لیکن متاثرین کی تصویریں اور ویڈیوز ان کے لیے زندگی بھر کا بوجھ نہ بنائیں۔ ان کے دکھ کو اپنی شہرت یا مفاد کا ذریعہ نہ بنائیں۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھیں، ان کی عزت کو محفوظ کریں، اور یہ یاد رکھیں کہ کل کو یہ آزمائش ہمیں بھی گھیر سکتی ہے۔

یوسف صدیقی

Related posts

خیبر پختو نخواہ کا افسانہ

انجمن پنجاب

تنقید کیا ہے