صاحب دھیان دیجئے

صاحب دھیان دیجئے۔ احساس کیجئے
ہم سے غلام بن کہ گزاری نہیں جاتی

ہر بات جو کڑوی ہو کسیلی ہو جہاں کی
چپ چاپ سے اندر تو اتاری نہیں جاتی

گر دل میں کوئی درد کوئی رنج بسا ہو
ہر شام تو میخانے گزاری نہیں جاتی

چپ چاپ اترتی نہیں چپکے سے جو پی لی
سستے میں میری جان خماری نہیں جاتی

جو دکھ کا مداوہ بھی کرے غم بھی بھلا دے
ہر روز ایسی شام اتاری نہیں جاتی

رکھو حساب دل کہ اجڑنے کا سبب کیا
ایسے تمام عمر گزاری نہیں جاتی

سلطانہ ناز

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے