صبا اس سے کہہ دو مجھے اب نہ مانگے

صبا اس سے کہہ دو مجھے اب نہ مانگے
میں پا لوں اسے پــر رسائی نہیں ہے

نہیں ہے توقع کہ پھر ہم ملیں گے
تو پھر اس سے کہ دو مجھے اب نہ مانگے

تڑپتی ہے روح اس کی ہر اک صدا پر
مگر میں ہوں بے بس مجھے اب نہ مانگے

حمّاد اب بتا دو خودی جا کہ اس کو
کہ تو بے وفا ہے تجھے اب نہ مانگے

سردار حمادؔ منیر

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا