سب توڑ دیں حدود مرا دل نہیں لگا

سب توڑ دیں حدود مرا دل نہیں لگا
زندان تھا وجود مرا دل نہیں لگا

من میں منافقت لئے پڑھتی رہی نماز
تھے نام کے سجود مرا دل نہیں لگا

اے رب دو جہان ترے اس جہان میں
کوشش کے باوجود مرا دل نہیں لگا

اس بار شوق وصل کی لذت بھی کھو گئی
طاری رہا جمود مرا دل نہیں لگا

دنیائے رنگ و رس سے بھی اکتا گئی ہوں میں
کیا رقص کیا سرود مرا دل نہیں لگا

میں جا رہی ہوں چھوڑ کے اے ساکنان شہر
یہ قریۂ نمود مرا دل نہیں لگا

کومل جوئیہ

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا