سامنے بیٹھا رہا وہ شخص

سامنے بیٹھا رہا وہ شخص جو تھا اجنبی
خواب کی تعبیر ہو جیسے سراپا اجنبی

کاش کوئی آنکھ بھی، دل کی کہانی پڑھ سکے
لب ہلے ہیں بارہا، ہر لفظ نکلا اجنبی

تو بتا تعبیر مجھ کو ، اس سفر کے خواب کی
موج بھی بے تاب تھی، اور ناخدا تھا اجنبی

آخرش اس گھر کی تنہائی نے مجھ سے بات کی
رہ گیا تھا اپنے اندر میں اکیلا اجنبی

تیرگی کے قافلے میں روشنی کے خواب کو
دور سے تکتا رہا سورج چمکتا اجنبی

فیاض ڈومکی

Related posts

زمیں کی بات کرتے ہیں

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

مرد کے حصے کا ہجر