رنج درپردہ خیالات کا حاصل ہی نہ ہو

رنج درپردہ خیالات کا حاصل ہی نہ ہو
یعنی یہ زہر مری ذات کا حاصل ہی نہ ہو

رات سورج کی طرح تھا مری چوکھٹ پہ چراغ
یہ مری شب کی مناجات کا حاصل ہی نہ ہو

دیکھتا ہوں میں جو مہتاب تو شک ہوتا ہے
یہ کہیں تیرے جمالات کا حاصل ہی نہ ہو

خاک در خاک جو ہم بنتے بکھرتے ہیں یہاں
یہ ہنر ارض و سماوات کا حاصل ہیں نہ ہو

تم جسے رات کی رعنائی سمجھ بیٹھے ہو
وہ دیا شب کے مفادات کا حاصل ہی نہ ہو

خود سے بیزار خموشی کو پکارو کیسے
میرا آوازہ مری مات کا حاصل ہی نہ ہو

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی