روشنی والے وسیلے کی لگی رہتی ہے

روشنی والے وسیلے کی لگی رہتی ہے
بس اندھیرے کو مٹانے کی لگی رہتی ہے

وہ جو گوہر ہے سمندر میں اتر جاتا ہے
صرف سیپی کو کنارے کی لگی رہتی ہے

آنکھ والوں میں بصارت کی کمی ہے شاید
جب ہی اندھوں کو دکھاوے کی لگی رہتی ہے

پھر کسی نقش_کف_پا کو مٹانے کے لیے
راہ کو خاک اڑانے کی لگی رہتی ہے

زرد موسم میں گلابوں کی تمنا کر لی
جس طرح دھوپ میں سائے کی لگی رہتی ہے

خواب بنتی تھیں مگر آنکھوں کو اب شام ڈھلے
در کی،دستک کی، دریچے کی لگی رہتی ہے

دھوپ موسم میں برس جاتی ہے بارش اکثر
اسکو خوشیوں میں بھی رونے کی لگی رہتی ہے

پھر توجہ نہیں جاتی تری خفگی کی طرف
آنسوؤں کو ترے شانے کی لگی رہتی ہے

شہلا خان

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا