روشنی کا نشان چاہتے ہیں

روشنی کا نشان چاہتے ہیں
ہم نیا آسمان چاہتے ہیں

لوگ اپنی ستائشوں کے عوض
مجھ سے میری زبان چاہتے ہیں

تیری آنکھوں کے اس سمندر میں
ہم بھی اپنا نشان چاہتے ہیں

اصل میں دھوپ کے ہیں سوداگر
جن سے ہم سائبان چاہتے ہیں

نفرتوں کو فروغ دے کے سعید
لوگ امن و امان چاہتے ہیں

سعید خان

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا