روشنی سی کبھی کبھی دل میں

روشنی سی کبھی کبھی دل میں

منزل بے نشاں سے آتی ہے

لوٹ کر نور کی کرن جیسے

سفر لا مکاں سے آتی ہے

نوع انساں ہے گوش بر آواز

کیا خبر کس جہاں سے آتی ہے

اپنی فریاد بازگشت نہ ہو

اک صدا آسماں سے آتی ہے

تختۂ دار ہے کہ تختۂ گل

بوئے خوں گلستاں سے آتی ہے

دل سے آتی ہے بات لب پہ حفیظؔ

بات دل میں کہاں سے آتی ہے

حفیظ ہوشیارپوری

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے