روبرو ہے آئنہ

روبرو ہے آئنہ
یعنی تو ہے آئنہ

لہجہ سنگ سنگ ہے
جستجو ہے آئنہ

لفظ لفظ روشنی
گفتگو ہے آئنہ

تجھ کو دیکھتے رہے
آبِ جو ہے آئنہ

لا الہ کی ضرب ہے
اور ہو ہے آئنہ

محمد رضا نقشبندی

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل