رو رہا ہوں میں

رو رہا ہوں میں در و دیوار کیوں خاموش ہیں
یہ شریکِ غم مرے یہ یار کیوں خاموش ہیں

عقل بھی خاموش دل بھی خامشی کی اوٹ میں
یہ جو میرے ساتھ ہیں بیدار کیوں خاموش ہیں

اک مکیں بستی کو غمگیں کر گیا دل کی مری
پھر بھی کہتے کیوں ہو "یہ بازار کیوں خاموش ہیں؟”

اک معمہ ہے کہ چھوڑا ہے اسے یا پھر نہیں
گر نہیں تو میرے یہ اشعار کیوں خاموش ہیں

محمد حذیفہ جلال

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان