رشتۂ جسم و جاں بھی ہوتا ہے

رشتۂ جسم و جاں بھی ہوتا ہے
ٹوٹنے کا گماں بھی ہوتا ہے

اس توہم کے کارخانے میں
کارِ شیشہ گراں بھی ہوتا ہے

ہم سے عزلت نشیں بھی ہوتے ہیں
عرصۂ لامکاں بھی ہوتا ہے

ہم بھی ہوتے ہیں اُس کی محفل میں
رقصِ سیّارگاں بھی ہوتا ہے

بادِ صحرائے جاں بھی ہوتی ہے
نغمۂ سارباں بھی ہوتا ہے

جوئے آبِ رواں بھی ہوتی ہے
عکسِ سروِ رواں بھی ہوتا ہے

پھول کھلتے بھی ہیں سرِ مژگاں
چاندنی کا سماں بھی ہوتا ہے

لوگ مل کر بچھڑ بھی جاتے ہیں
اور یہ ناگہاں بھی ہوتا ہے

چشمِ آئینہ ساز میں شاید
آئینہ کا گماں بھی ہوتا ہے

رسا چغتائی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا