رِدائے شب نہیں رہی

رِدائے شب نہیں رہی
کوئی طلب نہیں رہی

سنو ! وفا کی آرزو
مجھے بھی اَب نہیں رہی

سحر کا رنگ سرخ ہے
شبِ طرب نہیں رہی

سخن بھی لڑکھڑا گئے
شراب جب نہیں رہی

تھکن مری شکست کا
کبھی سبب نہیں رہی

سنا ہے اُس کے شہر کی
فضا عجب نہیں رہی

مرے خدا ! یہ زندگی
عذاب کب نہیں رہی

لو مر گئی ہے فاختہ
وہ جاں بہ لب نہیں رہی

 

ناصر ملک

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا