ریشم زلف کے تار بھی باتیں کرتے ہیں

ریشم زلف کے تار بھی باتیں کرتے ہیں
اُس کے تو رخسار بھی باتیں کرتے ہیں

اتنا وقت میں دیتا ہوں اُس لڑکی کو
اب تو میرے یار بھی باتیں کرتے ہیں

سو افسانے بن جاتے ہیں پل بھر میں
ہم دونوں دو چار بھی باتیں کرتے ہیں

ہر اک شعر نہیں ہو سکتا اچھا شعر
شاعر کچھ بیکار بھی باتیں کرتے ہیں

ناکامی اک ایسا موڑ ہے جس کے بعد
اپنے بھی اغیار بھی باتیں کرتے ہیں

ڈاکٹر فخر عباس

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل