ریشم و اطلس و کم خواب، نہ زر مانگتے ہیں

ریشم و اطلس و کم خواب، نہ زر مانگتے ہیں
ہم تو بس تجھ سے فقط رزقِ نظر مانگتے ہیں

دیدہ و دل کی یہ ضد بھی ہے عجیب، دیکھیے تو
کُوئے جاناں کی طرف اذنِ سفر مانگتے ہیں

وہ جو پڑنے نہیں دیتے تھے پرَوں پر پانی
اب وہ اُڑنے کے لیے بال نہ پر مانگتے ہیں

ہم تو وہ ہیں کہ جنھیں کاٹ رہے ہوتے ہیں
اُنھیں اشجار ہی سے برگ و ثمر مانگتے ہیں

یہ جو انصاف طلب لوگ کھڑے ہیں صاحب
کیا کریں آپ سے اب آپ کا سر مانگتے ہیں

یہ دریچے، مری آنکھوں کے دریچے خاور
رُخِ جاناں کی جھلک بارِ دگر مانگتے ہیں

ایوب خاور

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان