رحمت ہے جو کچھ

رحمت ہے جو کچھ اور سِوا ہونے لگی ہے

روزے سے ہوں اور نعت عطا ہونے لگی ہے

توفیق ملی ہے جو کھلی سانس کی مجھ کو

جتنی بھی گھٹن تھی وہ ہوا ہونے لگی ہے

اے عجزِ بیاں دیکھ ،ذرا حرفِ رواں دیکھ

یہ نعت جو آنکھوں سے ادا ہونے لگی ہے

اے شافع محشر ، مری دھرتی پہ نظر کر

مٹی پہ قیامت سی بپا ہونے لگی ہے

سجدوں کو بھلا کیسے بچائیں ، کہ یہاں تو

ہر قسم کی مخلوق خدا ہونے لگی ہے

 

سعود عثمانی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا